صفحہ اول / پاکستان / پشاور ہائیکورٹ مظلوموں کی پناہ گاہ بن چکی ہے ،شیخ وقاص

پشاور ہائیکورٹ مظلوموں کی پناہ گاہ بن چکی ہے ،شیخ وقاص

پشاور۔ جھنگ حلقہ 109سے کامیاب ہونے والے آزاد اُمیدوار (پی ٹی آئی) شیخ وقاص اکرم نے نو دس ماہ کی خودساختہ روپوش کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے باہر اپنے وکلاء معظم بٹ ، عقیل بٹ اورشاہ فیصل و دیگر ایڈدوکیٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ آج میں نو دس ماہ کی روپوشی کے بعد اپنی حفاظتی راہداری ضمانت کیلئے یہاں پر آیا ہوں او رپشاورمیں آئی ایل ایف کے وکلا ء نے اور ان کی قانونی ٹیم نے ہمارے تحریک انصاف کے دوستوں نے ہمیں خوش آمدید کہا ہے اور ہماری سپورٹ کی ہے۔

میں اس موقع پر بانگ دوہل یہ بات کرناچاہتا ہوں کہ پشاور ہائیکورٹ کے اندر رول آف لا ء کے زاویے سے اگر ہمیں دیکھیںتے ہیں تو یہ اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ مظلوموں کی پناہ گاہ بن چکی ہے ،جو انصاف ہمیں پنجاب میں ،بلوچستان میں یا سندھ میں نہیں مل رہا ہے ہر آدمی جو ہے وہ پشاور کی طرف آر ہا ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہاں لوگوں کی ویلویوز کتنی مضبوط ہے اور لوگ انصاف مہیا کرنے کیلئے کس حد تک جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کیلئے میں کے پی کے کے دوستوں کا آئی ایل ایف کی ٹیم کا شکر گزار ہوں میری جو نو دس مہینے کی روپوشی تھی جس میں ہم نے جارحیت کا بر بریت کا ، ظلم کا سامنا کیا ہے اپنے کاروبار تباہ کر الئے ہیں اپنے فیملیز سے نہیں ملے ہیں اپنے بچوں سے نہیں ملے ہیں ان سے دور ہوئے ہیں اپنے دوستوں سے دور ہوئے ہیں آپ کو بتاتا چلوں کہ پورا الیکشن اپنے حلقے میں نہیں جاسکا میں نے الیکشن جیتا ہے سوا لاکھ سے اوپر کی لیڈسے اور میں اپنے حلقے میں کمپین نہیں کر سکا مجھے حلقے میں کمپین کرنے کی اجازت نہیں تھی ، ووٹ مانگنے کی اجازت نہیں تھی ۔

انہوں نے کہاکہ جو ووٹ چور ہیں جو ووٹ مینڈیٹ کے چور ہیں جلسے بھی کر رہے تھے اور ریلیاں بھی کر رہے تھے مگر ہم کمپین نہیں کر سکے ووٹ نہیں مانگ سکے مگر اس کے باوجود آپ لوگوں اور عوام کا جذبہ دیکھیں اور ان کی محبت دیکھیں اور ان کی خان سے محبت دیکھیں اور قوم سے کمنٹمنٹ دیکھیں کہ اُمیدوار کی غیر موجودگی میں انہوں نے ہمیں سوا سوا لاکھ کی لیڈ سے ایم این اے بنوایا ہے ۔

اگر یہ پیغام کافی نہیں ہے پی ایم کے دوستوں کیلئے یا مینڈیٹ چور ہیں ان کیلئے تو اگلا پیغام جو ہے وہ اچھا نہیں ہوگا ،جب آپ مینڈیٹ چوری کرکے بیٹھیں گے آپ کی رٹ نہیں ہوگی آپ اپنی رٹ کو انفورس نہیں کر سکیں گے آپ کو کوئی نہیں مانے گا کہ آپ حقیقی حکمران ہیں تو لامحالہ مجھے یہ سیٹ اپ تو چند ماہ یا ایک سال سے زیادہ چلتا نظرنہیں آتا اس کے بعد دوبارہ یہی کھیل اور یہی تماشا ، یہ نہ تو مہنگائی کنٹرول کر سکیں گے ،نہ یہ معیشت کنٹرول کر سکیں گے، نہ یہ جو باقی صورتحال مہنگائی کی وجہ سے باقی جو لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوگی یہ کنٹرول نہیں کرسکیں گے۔

شیخ وقاص نے مزید کہا کہ یہ اس قابل نہیں ہیں کہ اس لئے کہ یہ حقیقی نمائندے نہیں ہیں ، حقیقی نمائندوں سے اقتدار چوری کرنے والے مینڈیٹ چور جو ہیں ان کے لئے صرف اتنا پیغام ہے کہ چند دن موج کر لو ،جتنی چوری کرنی ہے چوری کے ووٹوں پر اس کے بعد عوام اب تمہارا محاسبہ کرے گی اور ایسا سخت کرے گی کہ کبھی جہاں سے آتے ہوئے الیکشن لڑنے کیلئے ہمیشہ وہیں چلے جائو گے۔

ایک سوال کے جواب میں شیخ وقاص نے کہا کہ میں اتنا عرصہ آپ کے صوبے کے مہمان تھے،میں نے کہاہے کہ آپ کے صوبے نے مہمان نوازی کی روایت برقرار رکھی ہے جنہیں پناہ پاکستان میں کہیں ن ہیں ملی وہاں کے پی کے غیور اور خود دار اور جانباز لوگوں نے مہمان نوازی کا حق ادا کیا ہے کبھی ایک ضلع کبھی دوسرا ضلع کبھی تیسرا ضلع مگر جو محبت آپ لوگوں نے دی ہے ہم اس آپ کا یہ احسان کبھی بھی نہیں اتار سکتے ۔

میں مشکل سے نو دس ماہ بعد منظر عام پر آیا ہوں آپ مجھے پھر سے مشکل میں ڈالنا چاہتے ہیں میں نے تو بڑا واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ جو انصاف کے راہنما اصول ہیں جو انصاف کیلئے کمنٹمنٹ ہے جوڈیشری کی کے پی میں جو پریشر وہاں ہیں وہ یہاں بھی ہیں لیکن کمال کی بات ہے کہ لیکن یہ دیکھنا ہے کہ کون اس پریشر کو برداشت کرکے ڈٹ کر کھڑا ہے بات یہ ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں شیخ وقاص کا مزید کہنا تھا کہ مجھے آپ یہ بتائیں کہ صدر پاکستان پر آرٹیکل 6کا مقدمہ کریں گے میں آپ اس بات کا جواب دیں کہ جتنے مقدمے ہمارے دوستوں پر پورے پاکستان میں درج کئے ہیں جن کی ہزاروں میں تعداد ہے کیا وہ ہمارے لوگوں کا کمنٹمنٹ یا جذبہ توڑ سکے کیا ولولہ ہلا سکیں ہیں کیا آپ کو الیکشن میں نظر نہیں آیا کہ کو پرچے ہیں یہ آپ کے گلے پڑجاتی ہے اور گلے پڑگئی ہے اس لئے آپ کو چوری کرنی پڑی ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ جتنے مرضی آرٹیکل لگا لیں سچ اور حق جو ہے وہ سچ اور حق ہی ہے وہ تبدیل نہیں ہو سکتا کسی بھی کیس سے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ یہ حکومت زیادہ عرصہ چل سکے گی ایک ایسی حکومت جس کے پچھلے سولہ مہینے کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے آپ یہ بتائیں کہ کو وزیر اعظم پچھلے سولہ مہینوں میں کچھ نہیں کرسکے اور بیچ میں جو الیکشن کا ٹائم آیا اس میں کونسی گیڈر سنگھی آگئی کوئی چیز تبدیل ہوگئی یا کچھ موسم تبدیل ہوگیا کوئی پیسوں کی بارش شروع ہوگئی ہے یا کوئی ان کی سکل بہتر ہوگئی ہیں یہ وہی لوگ ہیں ، وہی ٹیم ہے یہ کل بھی نکمے تھے اور یہ آج بھی نکمے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ سنی اتحاد کونسل پاکستان تحریک انصاف کی پرانی اتحادی ہے یہ اپنے ذہن میں رکھیں یہ کوئی نئی چیز سامنے نہیں آئی اس وقت میں جب پاکستان تحریک انصاف کو سنی اتحاد کونسل کے دوستوں کی ضرورت تھی ہم ان کے شکر گزار ہیںکہ انہوںنے اپنے آپ کو پیش کیا اب لیڈر بھی خان ، پارٹی بھی خان کی ، ایجنڈا بھی خان کا اور انشااللہ تعالی ویژن بھی خان کا ہوگااور جیت بھی خان کی ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ مینڈیٹ چوری کرنے سے اگر آپ چیف منسٹر بن بھی جائیں تو آپ حیققی معنوں میں چیف منسٹر نہیں ہیں آپ کی کوئی رٹ نہیں ہوگی آپ جب چلیں گے تو آپ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑیگاعوام کے غیظ و غذب کا سامنا کرنا پڑیگاتو اس کو میں بہت زیادہ نہیں سمجھتا کہ پی ایم کیلئے یا ن لیگ کیلئے خوشخبری ہے یہ اتنی بڑی خوشخبری ہے کہ جس طرح سولہ مہینے شہباز شریف کیلئے تھی یہ پنجاب کیلئے اتنی بڑی خوشخبری ہے کہ مریم نواز صاحبہ چیف منسٹر بن گئی ہیں۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: قلب نیوز ڈاٹ کام ۔۔۔۔۔ کا کسی بھی خبر اورآراء سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ بھی قلب نیوز ڈاٹ کام پر اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر شائع کر نا چاہتے ہیں تو ہمارے آفیشیل ای میل qualbnews@gmail.com پر براہ راست ای میل کر سکتے ہیں۔ انتظامیہ قلب نیوز ڈاٹ کام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے