صفحہ اول / پاکستان / نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ، ظاہر جعفر کو سزائے موت،والدین بری

نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ، ظاہر جعفر کو سزائے موت،والدین بری

اسلام آباد . عدالت نے نورمقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کو سزائے موت اور دو شریک مجرموں کو دس دس سال قید کا حکم سنادیا جب کہ مجرم کے والدین ذاکر جعفر سمیت دیگر 9ملزمان کو بری کردیا۔

راولپنڈی کے ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے نور مقدم قتل کیس کا 22 فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ آج سنادیا۔ فیصلے کے مطابق خاتون نور مقدم کو قتل کرنے کے جرم میں عدالت نے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنادی جب کہ مجرم کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم کو بری کردیا گیا ہے۔

فیصلے میں تھراپی ورکس کے تمام 6 ملازمین کو بھی بری کردیا گیا جب کہ جرم کی معاونت کرنے پر دو مجرموں افتخار چوکی دار اور مالی جان محمد کو دس دس قید کی سزا سنادی۔

واضح رہے کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت 12 ملزمان پر گزشتہ برس 14 اکتوبر کو فرد جرم عائد ہوئی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر کیس کا ٹرائل چار ماہ کے ریکارڈ وقت میں مکمل ہوا۔

وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہاکہ ‏نور مقدم کیس میں پولیس اور پراسیکیوشن نے ذمہ داری پوری کی اور عدالت نے چار ماہ میں فیصلہ کیا ہے یہ ہے وہ انصاف جس کی توقع پاکستانی عوام کرتے ہیں امید ہے انصاف سے جڑے ادارے عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے اور رول آف لاء نافذ ہو گا۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: قلب نیوز ڈاٹ کام ۔۔۔۔۔ کا کسی بھی خبر اورآراء سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ بھی قلب نیوز ڈاٹ کام پر اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر شائع کر نا چاہتے ہیں تو ہمارے آفیشیل ای میل qualbnews@gmail.com پر براہ راست ای میل کر سکتے ہیں۔ انتظامیہ قلب نیوز ڈاٹ کام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے