صفحہ اول / پاکستان / فقہ جعفریہ،بیوہ خاوند کے جائیداد کی حقداراور طریقہ کارطلاق سمیت 33 بلز منظور

فقہ جعفریہ،بیوہ خاوند کے جائیداد کی حقداراور طریقہ کارطلاق سمیت 33 بلز منظور

اسلام آباد ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961ءمیں مزیدترمیم کے دو بلز سمیت کلبھوشن یادیوکو اپیل کا حق ‘الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سمیت 33بلزمنظورکرلئے گئے۔

مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961ءمیں مزید ترمیم کرنے کا بل منظور کیا گیا ہے جس کے مطابق یہ ایکٹ مسلم عائلی قوانین (ترمیمی )ایکٹ 2021ءکے نام سے موسوم ہوگااور یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961ء(نمبر 8مجریہ 1961ء)میں ، دفعہ 4کو ذیلی دفعہ (1)کے طو رپر دوبارہ نمبر دیا جائےگااور ذیلی دفعہ (1)کے بعد ، جیساکہ مذکورہ بالا کو دوبارہ نمبر دیا گیا ہے ،حسب ذیل نئی دفعات کو شامل کر دیا جائےگایعنی ۔

اگر اہل تشیع سے کسی مسلم مرد کا انتقال ہو تا ہے تو اس کی بیوہ مرحوم کی غیر منقولہ ورثہ جائیداد سے حصہ درج ذیل طرح ہوگا ۔(الف)جائیداد کی مقررکردہ قیمت یا مالیت کا ایک چوتھائی حصہ ، اگر مرحوم شوہر نے کوئی جانشین بچہ نہ چھوڑ اہو ۔اور (ب)ایک آٹھواں حصہ ، اگر بچہ چھوڑا ہو۔اگر مرحوم کی دو یا دو سے زائد بیوہ ہوں ، تو ذیلی دفعہ (2)میں مذکورہ کے مطابق حصہ ان میں برابر تقسیم ہوگا۔

جائیداد کی قیمت یا مالیت ادائیگی کے وقت پائی جانے والی کے مطابق ہوگی اور نہ کہ شوہر کے مرنے کے وقت پائے جانے والی قیمت ۔بشرطیکہ اگر مرحوم کے قانونی ورثا ءبیوہ کو اس کا حصہ بالا شرائط میں نہ دے تو وہ بیوہ مجموعہ غیر منقولہ جائیداد میںجائز کے حصہ کی مستحق ہوگی ۔

ایک بیوہ اپنے شوہر کے مجموعہ منقولہ جائیداد میں حصہ کی مستحق ہوگی ، بشرطیکہ ذیلی دفعہ (2)اور (3)کی دفعات کا معمولی رد بدل کے ساتھ اطلاق ہوگا ۔ فقہ جعفریہ اپنی مرحومہ بیوی کے ترکے میں حصہ حاصل کرنے کے حق کو تسلیم کرتا ہے چاہے وہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ درج ذیل طرح سے ہے ۔

الف ۔ لاوارث ہونے کی صورت میں ایک نصف حصہ اور (ب )بچے چھوڑنے کی صورت میں جائیداد کا ایک چوتھائی حصہ ۔ تنازع کی صورت میں فریقین مجاز اختیارسماعت کی عدالت سے یا اسلامی نظریاتی کونسل کے پینل میں سے مجتہد عالم تک رسائی کے ذریعے رجوع کرسکیں گے ۔مجتہد عالم کے فیصلے کو فیصلہ ثالثی کا رتبہ حاصل ہوگا اور اس کو ثالثی ایکٹ 1940(10بابت 1940)کے احکامات کے مطابقت میں نپٹا جائےگا۔

تشریح : عبارت مجتہد عالم (فقیہ اعظم )سے مراد ایک فقہی مشیر ، مذہبی سکالر یا شیعہ مکتبہ فکر کا ڈاکٹر جو شریعت سے اچھی واقف ہو اور بین الاقوامی شہرت اور ایسی شناخت کا حامل ہو ۔اسلامی نظریاتی کونسل مجتہد عالم جو پیش ذکر اہلیتوں کے حامل ہوں اپنے پینل پر رکھیں جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 227میں وضع کیا گیا ہے کہ اہل تشیع کے وراثت کے حقوق اور ان سے منسلکہ معاملات یا ذیلی امور کا فیصلہ فقہ جعفریہ (شیعہ مکتب فکر )کی جانب سے تشریح کر دہ ان کی شخصی قانون کے مطابق کئے جائیں گے ۔

بیان اغراض وجوہ کے مطابق معزز عدالت عالیہ لاہور ، راولپنڈی نے سی آر نمبر 795بابت 2010ءمیں جب فقہ جعفریہ کی ایک بے اولاد بیوہ کی اس کے مرحوم خاوند کی میراث سے اس کے حصے کے دعویٰ اہلیت کے معاملے پر سماعت کر رہی تھی ، حسب ذیل قرار دیاہے ۔

یہ توقع کی جاتی ہے کہ حکومت پاکستان اہل تشیع میں سے بے اولاد بیواﺅں کے حقوق کو تحفظ دینے ان کے مرحوم خاوندوں کی میراث سے ان کی واجب الادا حصہ کے حصول کیلئے وزرات قانون اس بابت ایک مدون شدہ قانون کے نفاذ کیلئے قانونی اقدامات اٹھائے گی ،بل مذکورہ بالا مقصد کے حصول کیلئے وضع کیا گیا ہے جسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے اراکین نے اکثریت سے منظور کر لیا ۔

علاوہ ازیں مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961ء(نمبر 8مجریہ 1961ء)کی دفعہ 7میں (اول )ذیلی دفعہ (1) میں ، آخر میںآنے والے وقف کامل کو ، رابطہ سے تبدیل کر دیا جائےگا اور اس کے بعد حب ذیل فقرہ شرطیہ کو شامل کر دیا جائےگایعنی مگر شرط یہ ہے کہ جہاں فریقین فقہ جعفریہ سے تعلق رکھتے ہوں (الف)اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے اور اپنی آزادی سے خود اعلان کرے یا باضابطہ مجاز شدہ اٹارنی (وکیل)کے ذریعے ، کم از کم دوگواہان کی عملی موجودگی میں جو قانون شہادت 1984ء(صدارتی فرمان 1مجریہ 1984ء)کے آرٹیکل 17کی شق (1)کے معیار پر پورا اترتے ہوں ، طلاق کے عربی متن کے الفاظ (صیغہ )ادا کرے ۔

(ب)طلاق کا اعلان اگر مذاقاًیا غصے ، نشہ ،فاتر العقلی ، جبر کے تحت یا دباﺅ کی کسی بھی صورت کے تحت ہو اور کسی بھی مشکل صورتحال میں کیا گیا ہو غیر موثر ہو گا اور (ج)اختلاف رائے کی وجہ سے اٹھنے والے ، تنازعہ کی صورت میں ، پیر اگراف (الف)یا (ب)کے حوالہ سے ، فریقین یا کوئی بھی فریقین کسی مجاز اختیار سماعت عدالت سے یا ”مجتہد عالم “تک رسائی کے ذریعے رجوع کر سکیں گے اور مجتہد عالم کا فیصلہ ، ثالثی فیصلے کی حیثیت رکھے گااور ثالثی ایکٹ ، 1940ء(نمبر 10بابت 1940ء)کے احکامات کے مطابق نمٹا جائےگا۔

تشریح : مجتہد عالم (فقیہ اعظم )سے مراد ایک فقہی مشیر ، مذہبی سکالر یا شیعہ مکتبہ فکر کا ڈاکٹر جو شریعت سے اچھی واقف ہو اور بین الاقوامی سطح پر شہرت اور ایسی پہچان کا حامل ہو ۔اسلامی نظریاتی کونسل پیش ذکر ایلیت کے حامل مجتہد عالم کا پینل پر رکھے گا اور ذیلی دفعہ (1)کے بعد درج ذیل نئی ذیلی (1 الف )شامل کی جائے گی یعنی (1 الف )جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 227میں وضع کیا گیا ہے کہ طلاق او ر اس سے منسلکہ معاملات ذیلی امور فقہ جعفریہ (شیعہ مکتبہ فکر )کی جانب سے تشریح کردہ شخصی قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائےگا۔

بیان اغراض وجوہ کے مطابق دستور پاکستان کے آرٹیکل 227(1)کے تحت قرآن و سنت کی تعلیمات کےمطابق تشریح کے ذریعے کسی بھی مسلمان فرقے کے شخصی قانون کی بابت قانون سازی کی بنیاد فراہم کر تا ہے اس وقت ، مسلم عائلی قوانین آرڈیننس، 1961ءعائلی امور سے معاملت کر تاہے ، جس میں ملک کے اندر تمام قفہ کے پیرو کار وں کے مطابق امور شامل ہیں ۔

شیعہ فقہ کے پیروکاروں نے ان کی جانب سے قرآن و سنت کی تشریح کے مطابق طلاق کیلئے قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا ہے لہذا یہ بل واضع کیا گیا ہے ۔اس بل پر اسلامی نظریاتی کونسل سے اعانت لی گئی ہے ،کونسل نے بھی اس کی توثیق کی ہے ۔ یہ قانون سازی شیعہ فقہ کے پیروکاروں کو ان کی تشریح کے مطابق طلاق کے امور کا تصفیہ کرنے کی اجازت دے گی ،بل کا مقصد مذکورہ بالا اغراض کا حصول ہے ۔

مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے جو دیگر بلز منظور کرائے گئے ان میں اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن امینڈمنٹ بل‘مسلم فیملی لاءترمیمی بل، اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) بل، حیدرآباد انسٹیٹیوٹ بل‘کرمنل لاءترمیمی بل، فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ویلیڈیشن آف رولز) ترمیمی بل‘پورٹ قاسم اتھارٹی ترمیمی بل، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ترمیمی بل، گوادر پورٹ اتھارٹی ترمیمی بل‘ امیگریشن ترمیمی بل اور نجکاری کمیشن ترمیمی بل بھی مشترکہ اجلاس میں منظور کرائے گئے۔

وزیر قانون نے بعد ازاں بل ایوان میں منظوری کے لئے پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا۔ مشترکہ اجلاس کے دور ان اسلام آباد فوڈ اتھارٹی بل منظور کرلیا گیا‘ضمنی ایجنڈے کے تحت اسلام آباد فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام کا بل علی نواز اعوان نے پیش کیا۔ اجلاس کے دور ان یونانی، آیورویدک اور ہومیوپیتھک پریکٹیشنرز بل بھی 2021 منظور کرلیا ،بل تحریک انصاف کی سینیٹر مہر تاج روغانی نے پیش کیا۔ بلوں کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

سرکاری ریڈیوکی رپورٹ کے مطابق مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے جو دیگر بلز منظور کرائے گئے ان میں دی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹریز چیریٹیز رجسٹریشن، ریگولیشن اینڈ فسیلیٹیشن بل 2021، نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ بل‘اسلام آباد رینٹ ریسٹرکشن ترمیمی بل‘کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیز ترمیمی بل شامل ہیں۔

اس کے علاوہ فنانشل انسٹیٹیوشن سکیورڈ ٹرانزیکشن ترمیمی بل، یونیورسٹی آف اسلام آباد بل، قرض برائے زرعی، تجارتی و صنعتی مقاصد ترمیمی بل، کمپنیز ترمیمی بل، نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن ترمیمی بل، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ترمیمی بل‘ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی ترمیمی بل اورنجکاری کمیشن ترمیمی بل بھی مشترکہ اجلاس میں منظور کرائے گئے۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: قلب نیوز ڈاٹ کام ۔۔۔۔۔ کا کسی بھی خبر اورآراء سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ بھی قلب نیوز ڈاٹ کام پر اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر شائع کر نا چاہتے ہیں تو ہمارے آفیشیل ای میل qualbnews@gmail.com پر براہ راست ای میل کر سکتے ہیں۔ انتظامیہ قلب نیوز ڈاٹ کام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے