صفحہ اول / پاکستان / پاکستان خطے میں دیر پا امن کے لیے کوشاں ہے،آرمی چیف

پاکستان خطے میں دیر پا امن کے لیے کوشاں ہے،آرمی چیف

راولپنڈی ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں دیر پا امن کے لیے کوشاں ہے۔ افغانستان میں پائیدار امن کیلئے انسانی بنیادوں پر تعاون اور امداد جاری رہنی چاہیے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں کور کمانڈرزکانفرنس جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ہوئی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں دیر پا امن کے لیے کوشاں ہے۔ بارڈر مینجمنٹ سے نقل و حرکت،سیکیورٹی صورتحال کنٹرول میں ہے۔ علاقائی امن و استحکام یقینی بنانے کیلئے شراکت داروں میں قریبی تعاون ضروری ہے، افغانستان میں پائیدار امن کیلئے انسانی بنیادوں پر تعاون اور امداد جاری رہنی چاہیے، افغانستان میں دیراستحکام کے لئے بین الاقوامی برادری کا تعمیری کردار بہت ضروری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران ملکی اندرونی و بیرونی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس میں افغانستان کی صورتحال کابھی جائزہ لیا جبکہ پاک افغان بارڈر پر ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق عسکری قیادت نے عزم کا اظہار کیا کہ پاک فوج کشمیری عوام کے ساتھ ہے، کشمیر کی آزادی کےلیے معروف حریت رہنما سید علی گیلانی کی جدوجہد، قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران شرکاءنے عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں امن خراب کرنے کی سازشیں ناکام بنائی جائیں گی۔

میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک افغان بارڈر پر مینجمنٹ کے تحت کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور غیر ملکیوں کے انخلا کیلئے پاک فوج کے کردار سمیت محرم الحرام میں پر امن انعقاد کیلئے پاک فوج کی کوششوں کو سراہا۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: قلب نیوز ڈاٹ کام ۔۔۔۔۔ کا کسی بھی خبر اورآراء سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ بھی قلب نیوز ڈاٹ کام پر اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر شائع کر نا چاہتے ہیں تو ہمارے آفیشیل ای میل qualbnews@gmail.com پر براہ راست ای میل کر سکتے ہیں۔ انتظامیہ قلب نیوز ڈاٹ کام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے