صفحہ اول / پاکستان / اسلام میں تشدد اورانتہا پسندی کی کوئی جگہ نہیں،علماءکامشترکہ اعلامیہ

اسلام میں تشدد اورانتہا پسندی کی کوئی جگہ نہیں،علماءکامشترکہ اعلامیہ

اسلام آباد ۔ وزیراعظم عمران خان کے نمائندہ خصوصی علامہ طاہر اشرفی کی سربراہی میں تمام مکاتب فکر کے علماءکرام نے سیالکوٹ فیکٹری میں سری لنکن منیجر پریانتھا قتل کے اندوہناک واقعے پر اظہار تعزیت اور اظہاریکجہتی کے لیے سری لنکن ہائی کمیشن گئے اور واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔

وزیراعظم عمران خان کے نمائندہ خصوصی علامہ طاہر اشرفی کی سربراہی میں وفد میں علامہ مفتی تقی عثمانی ، صاحبزادہ حامد سعید کاظمی ، پروفیسر ساجد میر ، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر ، صاحبزادہ حامد رضا ، علامہ عارف حسین واحدی ، مولانا مفتی عبدالرحیم ، و دیگر علماءکرام شامل تھے،جنہوں نے اپنے اپنے مکاتب کی ترجمانی کرتے ہوئے سانحہ سیالکوٹ کی شدیدالفاظ میں مذمت کی اور سری لنکن سفارتکار نے بھی سب علماء کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستانی حکام کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو سراہا ۔

اس موقع پر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز امیر نے مشرکہ اعلامیہ میں کہا کہ تمام مکاتب فکر کے علماءکرام مشائخ عزام کی یہ مشترکہ پریس کانفرنس ہے اور تمام مکاتب فکر کے علماءکرام نے کہاکہ سیالکوٹ کا حالیہ سانحہ ایک المیہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں غم و غصہ پھیل گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں ہجوم کی صورت میں بے رحمانہ انداز میں ایک انسان کو مارا پیٹا گیا اور بالآخر موت کے گھاٹ اتار کر اس کی لاش جلائی گئی،ماورائے عدالت قتل کا یہ بہیانک اور خوفناک واقعہ ہے، بغیر ثبوت کے توہین مذہب کا الزام لگا کر یہ ایک غیر شرعی حرکت کی گئی ہے یہ پوری صورتحال قرآن و سنت آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ملک میں رائج و جرم و سزا کے قوانین کے سراسر خلاف ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور تمام نمائندہ علماءنے آج یہاں آکر اس مذمت کا اظہار کیا کہ سری لنکن سفارتکار کے ساتھ عاقبت نااندیش عناصر کا یہ اقدام ملک قوم اور اسلام اور مسلمانوں کی یہ سبکی کا باعث بنا، علاوہ ازیں پیغام پاکستان کی قومی دستاویز جس میں ہر قسم کے مسلح اقدام کی نفی کی گئی ہے یہ اقدام اس پیغام پاکستان سے بھی سراسر انحراف ہے اور پیغام پاکستان کو پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مدارس بورڈ کی تائید حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ان شر پسند عناصر کے خلاف رائج ملکی قوانین کے خلاف سخت سے سخت قوانین کے مطابق اقدامات کئے جائیں گے اور اس تکلیف دی واقعہ میں اہم بات جو میں کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ نوجوان ملک عدنان بھی اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس قتل ہونے والے بے گناہ شخص کو بچانے کی جو بھرپور کوشش کی اس نوجوان کا یہ اقدام قابل تحسین ہے قابل تقلید ہے ہم وزیراعظم پاکستان نے ترقی کی اس فیصلے کی تائید کرتے ہیں تحسین کرتے ہیں کہ آج انشاءاللہ ساڑھے تین بجے ملک عدنان کوتمغہ شجاعت ملنے والا ہے یہ بہت مستحسن اقدام ہے ۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ آج کا نمائندہ اجتماع علماءکرام کا مفتیان کا اور مشائخ عزام کا یہ قرار دیتا ہے اسلام میں تشدد اور انتہا پسندی کی کوئی جگہ نہیں اور علمائے کرام اعتدال پسندی کو فروغ دیں گے اور انتہاپسندی کو روکنے کے لیے مارچ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے تاکہ ملک پاکستان امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے ۔

پریس کانفرنس میں علامہ طاہر اشرفی نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی یہ گذارش کی گئی ہے کہ اس معاملے میں سپیڈی ٹرایل کیا جائے تاکہ یہ مجرمین اپنے انجام کو پہنچیں ۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: قلب نیوز ڈاٹ کام ۔۔۔۔۔ کا کسی بھی خبر اورآراء سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ بھی قلب نیوز ڈاٹ کام پر اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر شائع کر نا چاہتے ہیں تو ہمارے آفیشیل ای میل qualbnews@gmail.com پر براہ راست ای میل کر سکتے ہیں۔ انتظامیہ قلب نیوز ڈاٹ کام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے