صفحہ اول / پاکستان / آرڈیننس بد نیتی اورحکومت کی کرپشن کیلئےاین آراو ہے،شاہد خاقان

آرڈیننس بد نیتی اورحکومت کی کرپشن کیلئےاین آراو ہے،شاہد خاقان

اسلا م آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے خواجہ آصف ، احسن اقبال و و یگر رہنماوں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ آرڈیننس مکمل طور پر بد نیتی پر مبنی ہے،حکومت کی کرپشن کیلئے این آراو ہے ،عدلیہ پر حملہ ہے اور انصاف کے نظام میں مداخلت کا ذریعہ ہے ،یہ سارے آرڈیننس کی حقیقت ہے ۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے نیب آرڈیننس جاری کرنے کا مقصد جب تک نام نہادحکومت جو قائم ہے اس کا کرپٹ وزیر اعظم قائم ہے تو یہی چیئرمین قائم رہے گا تاکہ حکومت کی کرپشن پر اسے این آر او ملتا رہے ، اور اب قانون کے تحت قانون شقیں ڈال دی گئی ہیں کہ یہ وزیر اعظم اور اس کی کابینہ جو ہزاروں ارب کے کرپشن کی مرتکب ہو چکی ہے ان کو مستقل این آر او دے دیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ کل ان سب کو انصاف کا اور احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس چیئرمین کوبھی یہ قدرت کا نظام بھی ہوتا ہے کہ آپ جو مرضی کرنا چاہیں اقتدار کے نشے میں لیکن ایک انصاف کا نظام قدرت کا بھی ہوتا ہے اور یہ سب اس کے دائرے میں آئیں گی آج اس آرڈیننس کے ذریعے جو مرضی کوششیں کر لیں اور پھر ایسی مضحکہ خیز شقیں ہیں اس آرڈیننس میں موجود ہیں کہ ضمانت دے گی اور وہی عدالت دے گی جو ٹرائل کررہی ہے.

اور اس کی رقم کیا ہوگی ضمانت کی کہ جو الزام نیب نے لگایا ہے ماشااللہ نیب 50/60ارب سے کم الزام لگاتا نہیں ہے ڈاکٹر اسد جو پٹرولیم کے وزیر تھے پیپلز پارٹی کے دور میں ان پر ساڑھے چارسو ارب کا الزام لگایا تھا ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں48ارب کا لگا یا ہے جسمیں 20ارب کا ہوچکا اور 28ارب کا ہونا باقی ہے اب 28ارب کی ضمانت دینے پڑے گی ضمانت لینے کے لئے یہ قانون ہیں یہاں پر ۔

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ اس آرڈیننس کے ذریعے قانون شہادت کو بدلنے کی کوشش کی گئی ہے یہ وہ چیزیں ہیں جو بڑی سوچ سمجھ کر جو قانون شہادت اس ملک کا ہے اس میں مداخلت آپ کریں گے تو کوئی انصاف کا نظام نہیں رہے گا اس پورے آرڈیننس کا مقصد یہ ہے کہ عجلت میں مرضی کے جج لگا کر ، کرپٹ افراد کو جج بنا کر جو اس عہدے کے اہل نہیں ہیں انہیں جج لگا کر فیصلے حاصل کئے جائیں اور اجلت میں حاصل کئے جائیں ۔

انہوں نے مزید کہاکہ آپ یہ شقیں پڑھیں ہم یہ کہتے تھے کہ آپ پاکستان کی عوام کو دکھائیں کیمرے لگا کر کہ ان عدالتوں میں ہوتا کیا ہے ۔اس کی بات اس میں نہیں ہے ۔لیکن یہ بات ہے کہ جو وٹنس ہوگا وہ آڈیووڈیوطریقے سے دے گااور جج صاحبان اسی پر فیصلہ کر دیں گے کہ وہ فیصلہ کریں گیں کے وٹنس کیا کہہ رہاہے اور آج ایک قانونی شہادت پر بھی ایک حملہ ہے ۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب آرڈیننس میں حکومت نے خود کو این آر او جاری کیا جس سے ثابت ہوگیا چیئرمین نیب صرف عمران خان کی نوکری کرتے ہیں،گندم، چینی چوری اور تیل، ادویات اسکینڈل پر نیب کچھ نہیں کرتا، چیئرمین نیب کو حکومتی کرپشن نظر نہیں آتی، بی آر ٹی، مالم جبہ کیسز ختم کر دیئے گئے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہزاروں ارب چوری کرنیوالوں سے نیب پوچھ گچھ نہیں کرسکتا، نیب ترمیمی آرڈیننس حکومتی کرپشن چھپانے کیلئے ہے، مہنگی ترین ایل این جی خریدنے پر نیب سوال نہیں کرسکتا، پنڈورا پیپرز میں آنیوالے 700 افراد سے نیب سوال نہیں کرسکتا، نیب کابینہ میں شامل وزراء سے سوال نہیں کرسکتا، ہزاروں ارب چوری کرنیوالوں سے نیب پوچھ گچھ نہیں کرسکتا، صدر مملکت ہر قسم کے کاغذ پر دستخط کیلئے تیار رہتے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہاکہ یہ ساری باتیں ہمارے ملک میں کرپشن کے ارد گرد گھوم رہیں ہیں اس قت ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل جس کا موجود وزیر اعظم بڑاریفرینس دیتے تھے کے مطابق پاکستان میں پچھلے تین سال میں کرپشن بڑھی ہے اور جو سٹینڈرڈ جو انڈی کیشن موجود وزیر اعظم کہا کرتے تھے کہ مہنگائی بڑھے تو وزیر اعظم کرپٹ ہے ،ٹیکس چوری ہوتو وزیر اعظم کرپٹ ہے ،بجلی مہنگی ہوتو وزیر اعظم کرپٹ ہے ، گیس مہنگی ہوتو وزیر اعظم کرپٹ ہے یہ ساری باتیں جو ہیں وہ اس موجود حکومت کے دور میں بڑھی ہیں.

انہوں نے کہاکہ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے ،ٹیکس بڑھ گئے ہیں ، گیس کی قیمت بڑھ گئی ہے ، بجلی کی قیمت بڑھ گئی ہے ، دوائیوں کی قیمت بڑھ گئی ہے تو یہ میں نہیں کہہ رہا یہ عمران کان صاحب نے کہا ہوا ہے جب چیزیں بڑھتیں ہیں تو وزیر اعظم چور ہوتا ہے حکمران چور ہوتا ہے اب جو اپنے بنائے ہوئے جو سٹینڈرڈ ہیں اپنے بنائے ہوئے کرپشن کی تعریف جو ہے اس کے تحت یہ خود اس نیب کے سب سے بڑے ٹارگٹ خود ہیں یاان کے وزرا ہیں جس طرح ان کیخلاف کیس جو ہیں وہ لپیٹے گئے ہیں اور اس وقت اس قطار کے اندر جو تین لوگ قید بھگتنے والے اشخاص بیٹھے ہوئے ہیں،بیورو کریٹس کو پروٹیکشن دی گئی ہے اور جن بیور کریٹس کے لئے یہ قانون بنایا گیا ہے آپ سب لوگ ان کو جانتے ہیں اس طرح اب وزرا کیلئے سینکڑوں نہیں ہزار ہا ارب کے سیکنڈل موجو د ہیں .

انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ شاہد خاقان نے کہا کہ چینی ، آٹا ،دوائیوں ، ایل این جی ، تیل ان سارے سینکنڈلز کو کوئی نہیں پوچھتا کوئی ان کی تفتیش نہیں کر رہا اور کھلی چھٹی ہے حکمرانوں کو جس طرح پاکستان کی عوام کو لوٹیں اور مہنگائی کا ایک طوفان آیا ہوا ہے ایک عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے ۔

موجودہ حکمرانوں کا اگر کسی نے ان کا موازنہ کر نا ہے ان کے اپنے بیانات کو جب یہ اپوزیشن میں تھے کو بنیاد بنا کر احتساب کر لیں جائزہ لے لیں تو اپنے بنائے ہوئے سٹینڈر ڈ کے مطابق کرپٹ ترین حکمران ہیں پاکستان کی تاریخ کے اور اب یہ ایک آرڈیننس کے تحت ایک کالا قانون جو پہلے سے موجود تھا اس پر مزید کالک مل کر اپنے سارے معاملات صاف کررہے ہیں اور جو اپوزیشن ان کیخلاف بولتے ہیں انہیں ٹارگٹ کیا جائے گا اور ہم یہ نہیں ہونے دیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں بڑی مضبوط کرسیوں والے حکمران آئے ، آمر رہے ، ڈیکٹیٹر رہے لیکن ماضی کا قصہ پارینہ بن چکے ہیں کوئی ان کو یاد نہیں کرتا اور کوئی انہیں جانتا بھی نہیں ہے اور موجودحکمران جو بنے ہوئے ان کے گریبان پر بھی عوام کا ہاتھ ہو گا اور ان کا کڑا احتساب ہوگا انصا ف کےساتھ احتساب ہوگا او رکسی کے ساتھ بے انصافی نہیں کی جائے گی ۔جس ملک سے جس دھرتی سے انصاف اٹھ جائے وہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا ۔

احسن اقبال نے کہا کہ یہ نیب کا قانون بیڈ بلیک لا ہی نہیں بلکہ یہ بد ترین کالا قانون ہے اس لئے کہ یہ سرکاری طورپر حکومت کی کرپشن کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ فرمائشی اور شخصی چیئرمینی کی تعینانی کیلئے بنایا گیا ہے پاکستان میں کبھی بھی پرسن سپیسیفک قانون کی سازی کی اجازت نہیں ہے کہ ایک شخص کیلئے آپ قانون سازی کریں اس حکومت نے اس پہلے بھارتی جاسوس کلبھوش یادھو کیلئے اسمبلی سے قانون پاس کرایا اب موجود چیئرمیں کو مسلط کرنے کیلئے قانون سازی کی .

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی ریاست کو انتشار کی ضرورت نہیں ہے یہ ایسا آرڈیننس ہے جو پاکستان کی ریاستی ڈھانچے میں مزید انتشار پید ا کرے گا۔احتساب اور الیکٹرورل ریفارمز یہ دو ایسے شعبے ہیں جب تک انہیں قومی اتفاق رائے نہ کیا جائے یہ ملک میں انتشار کا سبب بنتے ہیں .

احسن اقبال نے کہا کہ ہمارے پاس پانچ سال مضبوط اکثریت تھی ہم چاہتے تو ایک آرڈیننس کے کالے قانون کی شکل بدل سکتے تھے لیکن ہم نے بھی یہ کوشش کی اسے اتفاق رائے کے ساتھ تبدیل کیا جائے جب اتفاق رائے پانامہ کیس کے بعد پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے پیچھے ہٹنے سے ختم ہوا ہم نے اس کو اٹیمپٹ نہیں کیا کہ کوئی کل کو یہ انگلی نہ اٹھائے کہ حکومت اپنے مفادات کے حصول کیلئے قانون کو تبدیل کررہی ہے .

اسی طرح الیکشن لازہم نے تمام جماعتوں کے ساتھ ملکر قومی اتفاق رائے کے ساتھ منظور کئے یہ وہ بنیادی امور ہیں جن پر اگرقومی اتفاق رائے نہیں کریں گے تو ریاست کے اندر انتشار ہوگا یہ حکومت مسلسل ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جس سے انتشار میں اضافہ ہو جس سے ریاست کے اندر انتشار میں اضافہ ہوجس سے محاذ آرائی کے اندر اضافہ ہو کیاپاکستان یہ افورڈ کر سکتا ہے کہ ایسی قانون سازی کی جائے جس میں کسی کی شخصی حکمرانی جسمیں ایک جماعت کی حکمرانی جسمیں ایک فرد کے انتقامی ایجنڈے کو تحفظ دیا جائے.

یہ نیب آرڈیننس ہے ان لوگوں کو تحفظ ہے جن کے سیکنڈل سامنے آگئے ان کو کس طرح سے استثنا دینا ہے کس طرح سے حکومت نے احتساب سے بچنا ہے اور دوسرے جو حکومت کے مخالفین ہیں الیکشن سے پہلے غیر قانونی طو رپر دھکوں کےساتھ زبردستی اپنے من پسند ججوں کے ذریعے سزائیں دے کر اپنے راستے سے ہٹانا چاہتی ہے ان کو سامنے رکھ کر یہ قانون لکھا گیا ہے تو اس قسم کی دھونس اور اس قسم کی دھاندلی کی نہ عوام اجازت دیں گے اور نہ ہی ہمیں امید ہے انشااللہ تعالی پاکستان کا عدالتی نظام اس بات کی اجازت دے گا کہ اس طرح کے کالے قوانین آرڈیننس کے ذریعے جاری کئے جائیں ۔

اعظم نذید تارڑ قانوی ایکسپرٹ ن لیگ نے کہاکہ ہمارا نقطہ نظر آپ کےسامنے آیا آج صدر سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن لطیف آفریدی اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل خشدل خان آپس میں مشاورت کر رہے تھے اپنے دوستوں سے اور انہوں نے بھی پریس ریلز جاری کر دی ہے پاکستان بھر کی جو لائرزباڈئزہیں انہوں نے بھی اس کالا قانون کو رجیکٹ کیا ہے وہ بالکل آزاد باڈیز ہیں انہوں نے بھی اسے رجیکٹ کیا ہے جن کا سیاست سے تعلق نہیں ہے ، وکلا نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اس قانون میں تین بڑے سقم ہیں جو وکلا کی نظر میں ہے پہلایہ کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں اتنا مفصل آرڈیننس ہے جس میں اٹھارہ قسم کی ترامیم کی گئی ہیں نیب آرڈیننس میں وہ قانون آئینی طور پر ممکن نہیںہیں کیونکہ آرٹیکل 89کے تابع صرف اور صرف تب آڑڈیننس جاری ہوگا جب ایکسٹریم ایمرجنسی ہے جو فوری ایرجنسی تھی وہ ماسوائے چئیرمین نیب جاوید اقبال کو گھر بھیجنے کی بجائے دفتر میں براجمان کرنے کے کوئی ایرجنسی نہیں ہے کہ ان کی مدت ملازمت قانون اور آئین کے تحت کل 8اکتوبر کو ختم ہورہی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک لفافہ بنایا گیا ہے کہ باقی چیزیں بھی ڈالیں گئیں این آر او ڈال دیا گیا پیکج پورا دیا گیا او راس کے درمیان منفوف طریقے سے چیئرمین کی مدت ملازمت میں توسیع جو کہ اعلی عدالتوں کے فیصلو ں سے تصادم ہے جو یہ ترمیم ہے سپریم کورٹ آف پاکستان پہلے ہیں الجہاد ٹرسٹ کیس میں جس میں جاوید اقبال خود ہیڈ آف بینچ تھے 2011ءمیں اور 2009ءمیں دوسرا فیصلہ ہے سپریم کورٹ کا جو حارس سٹیل مل کا ہے اس میں ان امور پر سپریم کورٹ آف پاکستان اپنی رائے کا اظہار کر چکی ہے اس لئے جو خالی عہدہ ہے اس کی نئی تعینانی کرنے کی بجائے ایکسٹینشن یا سٹاپ گیپ نہیں کیا جاسکتا .

انہوں نے کہا کہ جو بات کہی گئی ایوی ڈینس کے حوالے سے وہ بھی متصادم ہے آپ کا جو بنیادی فنڈامنٹل رائٹس ہیں ملزم کے وہ آرٹیکل 4، آرٹیکل 9، 10Aکے تحت آئین پاکستان میں ان کو تحفظ دیا گیا ہے اس کے علاوہ ججز کی تعیناتی کے حوالے سے سپریم کورٹ اف پاکستان اور اعلیٰ عدالتیں فیصلہ دے چکی ہیں ۔

آرٹیکل 175اورآرٹکل 203کی تشریح کی گئی ہے جو سپریشن کا کنسیپٹ ہے کہ عدلیہ الگ ہے ، پارلیمان الگ ہے اور ایگزیکٹو الگ ہے یہ ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے یہ ڈائرکٹ مداخلت کا درازہ کھول دیا گیا ہے جس میں صدر پاکستان وزیر اعظم کی ایڈوائس پر ججز کے پینل بنا بنا کرریٹائرڈ لوگوں کے اور انہیں دس دس لاکھ کے پیکج دے کر بھیجیں گے اور اپنی چوائس کے لوگ لگائیں گے اور ان کی پوسٹنگ ٹرانسفر بھی اپنے پاس رکھ لی .

انہوں نے مزید کہاکہ یہی انہوں نے سیکم آف لا دی تھی اینٹی ریپ لاءمیں جو ابھی آرڈیننس کے ذریعے لایا گیا اور جب اسے بل کیاگیا توجب وہ سینٹ میں آیا سینٹ نے متفقہ طو رپر پارلیمنٹ کی جو سٹینڈنگ کمیٹی ہے لاءاینڈ جسٹس کی اسی سکیم آف لا کو رجیکٹ کیا اور انہوں نے کہاکہ یہ عدلیہ کی آزادی کے اصول سے متصادم ہے ہم اس کو نہیں مانتے پھر اس میں حکومت نے ترمیمی شقیں ڈالیں جس میں جو اصل طریقہ کار ہے کہ اس صوبے کے ہائی کورٹ سرونگ ججز میں سے اپوائنٹ کر تے ہیں وجہ کیا ہے کہ حاضر سروس لوگوں کو چیف صاحب مقرر کرتے ہیں کہ ان کی اکاونٹیبلٹی اس قانونی میکنزم کے تحت ہوتی ہے اور وہ ایگزیکٹو کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوتے وہ آزاد اور خود مختار ہوتے ہیں .

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم مشاور ت کر رہے اس کے بعد پارٹی کے قائدین جو لائحہ عمل مرتب کریں گے اس کے مطابق آگے چلا جائےگا ہمارے پاس ایسے فیصلے جات موجود ہیں جن سے اس کالے قانون کو چیلنج کرنے کیلئے ہمیں مدد ملے گی اور انشااللہ یہ قانون ختم ہوگا ۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: قلب نیوز ڈاٹ کام ۔۔۔۔۔ کا کسی بھی خبر اورآراء سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ بھی قلب نیوز ڈاٹ کام پر اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر شائع کر نا چاہتے ہیں تو ہمارے آفیشیل ای میل qualbnews@gmail.com پر براہ راست ای میل کر سکتے ہیں۔ انتظامیہ قلب نیوز ڈاٹ کام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے