صفحہ اول / پاکستان / پشاور،مسجد خودکش دھماکے میں شہداءکی تعداد 57سے زائد ہوگئی،200زخمی

پشاور،مسجد خودکش دھماکے میں شہداءکی تعداد 57سے زائد ہوگئی،200زخمی

پشاور . شاور کے قصہ خوانی بازار کے علاقے کوچہ رسالدار کی جامع امامیہ مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 57سے زائد افراد جاں بحق جبکہ200کے قریب زخمی ہوگئے۔شہید ہونیوالوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں،جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلئے گئے ،علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ،صدرمملکت،وزیراعظم ،وزیرداخلہ سمیت حکومتی و سیاسی رہنمائوں نے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور اموات پر اظہار افسوس کیا ہے ۔

وزیر ہائر ایجوکیشن و آرکائیوز خیبر پختونخوا کامران بنگش نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ)میں زخمیوں کی عیادت اور صورتحال کا جائزہ لیا، ہسپتال سے موصول رپورٹ کے مطابق اب تک 57سے زائد افراد جاں بحق جبکہ200کے قریب زخمی ہیں .

شہدا میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔حکومت خیبر پختونخوا کے ترجمان بیرسٹر محمد سیف نے تصدیق کی کہ دھماکے کے اندر ہونے والا دھماکا خودکش تھا جس میں دو حملہ آور ملوث تھے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ میں مقامی پولیس کے عہدیدار وحید خان کے حوالے سے بتایا گیا کہ دھماکا مسجد کے اندر نمازِ جمعہ کے دوران ہوا۔

قبل ازیں پولیس حکام نے بتایا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں 57سے زائد افراد جاں بحق جبکہ200کے قریب زخمی ہوگئے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔دوسری جانب لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم خان نے کہا کہ پشاور دھماکے میں جاں بحق57افراد کی لاشوں کو ایل ار ایچ منتقل کیا گیا ہے، جبکہ زخمیوں میں بھی بیشتر شدید زخمی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر ایل آر ایچ میں ریڈ الرٹ کرتے ہوئے اضافی طبی عملے کو بلا یا گیا ہے۔کیپٹل سٹی پولیس افسر محمد اعجاز خان نے بتایا کہ ابتدائی تفصیلات کے مطابق قصہ خوانی بازار کے کوچہ رسالدار میں شیعہ جامع مسجد میں 2 حملہ آوروں نے گھسنے کی کوشش کے دوران ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

عہدیدار کے مطابق پولیس ٹیم پر حملے کے بعد جامع مسجد میں زور دار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی اور جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔سی پی پی او نے بتایا کہ پولیس کے اعلی حکام موقع پر پہنچ چکے ہیں اور جائے وقوع سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ابتدائی طور پر دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول کرنے کا دعوی نہیں کیا۔

عینی شاہد شایان حیدر نے کہا کہ وہ مسجد میں داخل ہونے جارہے تھے کہ زوردار دھماکا ہوا اور جب ان کی آنکھ کھلی تو ہر طرف مٹی اور لاشیں موجود تھیں۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریسیکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں، اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔انتظامیہ نے قریبی ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کردی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے شروع کردیے۔

ایس ایس پی آپریشنز ہارون رشید خان نے بھی دھماکا خودکش ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جس کے بعد پولیس کا سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن جاری ہے، جبکہ علاقے کا بھی محاصرہ کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات جاری ہیں جبکہ محکمہ دہشت گردی کی ٹیم بھی جائے وقوع پر موجود ہے جبکہ ٹھوس شواہد ملنے پر میڈیا سے شیئر کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ ایک خوکش حملہ آور نے کیا جس میں 2 پولیس اہلکار بھی شہید ہوئے، جبکہ حملے کے حوالے سے کوئی تھریٹ الرٹ موصول نہیں ہوا تھا۔ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ ہر مسجد کی طرح اس مسجد میں بھی پولیس تعینات تھی اور پولنگ ڈیوٹی کی وجہ سے ہم نے نفریوں کو الرٹ کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلا پولیس اہلکار خودکش حملہ آور کو مسجد میں داخلے سے روکنے کی کوشش کے دوران شہید ہوا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا تھا، جو دوران علاج دم توڑ گیا۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے پشاور دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی پشاور میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بم دھماکے سے جانوں کے ضیاع پر دکھ اور شہید ہونے والے نمازیوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔انہوں نے چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پشاور کی جامع مسجد میں دھماکے کی مذمت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔انہوں نے شہدا کے لواحقین سے اظہار ہمدردی، شہدا کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی کوچہ رسالدار، پشاور میں مسجد میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے حضور سربسجود نمازیوں پر یہ اندوہناک حملہ کرنے والے نہ مسلمان ہو سکتے ہیں نہ ہی انسان۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی سنگین ہوتی صورتحال لمحہ فکریہ ہے، طویل عرصے سے بار بار توجہ دلا رہا ہوں کہ سر اٹھاتی دہشت گردی پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے، دہشت گردی کی واپسی ملک و قوم کے لیے نیک فال نہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پشاور میں دہشت گردی پر اظہار مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم نمازیوں کو نشانہ بنا کر انسانیت پر حملہ کیا۔انہوں نے دھماکے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو فوری گرفتار کیا جائے جبکہ زخمیوں کو علاج و معالجے کی بہتر سہولیات مہیا کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی عملدرآمد نہ ہونا افسوسناک ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ پشاور دھماکا ایک بڑی سازش کی کڑی ہے، ہم نے ماضی میں بھی ایسی سازشوں کا مقابلہ کیا ہے، انشاللہ اب بھی پاکستان کے دشمن ناکام ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما سینیٹر شیری رحمن نے بھی پارٹی چیئرمین کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا کہ ‘نمازیوں پر حملہ تمام انسانیت پر حملہ ہے۔انہوں نے خطے میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے میں ناکامی پر حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پشاور دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور زخمیوں کی صحتیابی کی دعا کی۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے اور اتنی محنت سے حاصل کیا گیا امن اس نااہل حکومت کے ہاتھوں پھر سے تباہ ہونے کی طرف جارہا ہے۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: قلب نیوز ڈاٹ کام ۔۔۔۔۔ کا کسی بھی خبر اورآراء سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ بھی قلب نیوز ڈاٹ کام پر اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر شائع کر نا چاہتے ہیں تو ہمارے آفیشیل ای میل qualbnews@gmail.com پر براہ راست ای میل کر سکتے ہیں۔ انتظامیہ قلب نیوز ڈاٹ کام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے